Wednesday, February 3, 2016

" خواہشات کا پورا ھونا قبولیت کی علامت نہیں

" خواہشات کا پورا ھونا قبولیت کی علامت نہیں "
کتب میں ایک واقعہ لکھا ھے کہ...
دو شخص ایک عیسائی اور ایک مسلمان دونوں بستر مرگ پر تھے بیماری کی اس حالت میں عیسائی کے دل میں یہ خواہش پیدا ہوئ کہ مجھے مچھلی کا گوشت مل جائے...
اللہ سبحان و تعالٰی نے فرشتے کو حکم دیا کہ جاؤ اور اس عیسائی کے گھر کے تالاب میں ایک مچھلی ڈال آؤ تاکہ اسکی خواہش پوری ھو جائے....
دوسری طرف مسلمان کے دل میں خواہش ابھری کہ زندگی کے اس آخری حصہ میں مجھے زیتون کا تیل میسر ھو جائے...
اللہ عزوجل نے حکم دیا کہ اس کی الماری میں زیتون کا تیل ھے جاؤ اور اس کو گرا دو....
اللہ سبحان و تعالٰی کا حکم ھے کہ عیسائی کی خواہش پوری کرو اور اس مسلمان کا زیتون کا تیل
گرا دو....
فرشتے نے عرض کیا : آپ کا حکم امت کی آسانی کے لئے ھے اس کی حکمت بھی فرما دیجیے تاکہ امت کی اصلاح ھو جائے اور انسانیت کو سبق مل جائے
تو اللہ سبحان و تعالٰی نے فرمایا :
" وہ جو عیسائی ھے دنیا کے لحاظ سے اس کی ایک نیکی باقی تھی میں چاہتا ہوں کہ اس کی نیکی کا بدلہ دنیا ھی میں دے دوں اور جب وہ میرے پاس آ ئے تو اس کے لئے سوائے جھنم کے اور کچھ نہ ھو......
اور جہاں تک اس مسلمان کا تعلق ھے تو اس کی ایک کوتاہی اس کے دامن پر رہ گئ ھے، اور میں چاہتا ہوں کہ اس کی وہ خواہش ٹوٹے اور وہ اس پر صبر کرے اور میں اس کے بدلے میں اس کی اس کوتاہی کو دور کر دوں تاکہ جب وہ میرے پاس آئے تو اس کے لئے میرے پاس سوائے جنت کے اور کچھ نہ ھو. "

"سبحان اللہ وبحمد ہ سبحان اللہ العظیم "
کرنی تھی بخشش تو بہانے بنا دیئے
جنت میں مومنوں کے ٹھکانے بنا دیئے

No comments:

Post a Comment