شاگرد نے جواب دیا 33سال سے
, فرمایا, اتنے لمبے عرصے میں مجھ سے کیا سیکھا?
بولے صرف آٹھ باتیں,
شیخ کہنے لگے انّا للٰہ وانّا الَیہ راجِعُون, تو نے صرف آٹھ باتیں سیکھیں?
شاگرد بولا, زیادھ نہی سیکھ سکا جھوٹ بھی نہی بول سکتا, شیخ بولے بتاؤ کیا آٹھ باتیں سیکھیں
? بولے
١:مخلوق کو دیکھا تو معلوم ھوا ھر کسی کا محبوب ھوتا ھے قبر تک اپنے محبوب کے ساتھ رہتا ھے جب قبر میں جا پہنچتا ھے تو محبوب سے جدا ھو جاتا ھے, اس لئے میں نے اپنا محبوب نیکیوں کو بنا لیا تاکہ وہ قبر میں میرے ساتھ رھیں
2: جس نے اپنے رب کے سامنے کھڑے ھونے کا خوف کھایا اور نفس کو بُری خواھش سے روکا اس کا ٹھکانہ جنّت ھوگا, یہ آیت سنی تو اپنے نفس کو لگام دی یہاں تک کہ میرا نفس اطاعت الٰھی پر جم گیا
3: لوگوں کو دیکھا کہ کسی کے پاس قیمتی شے ھے تو سنبھال کر رکھتا ھے اس کی حفاظت کرتا ھے پھر اللہ تعالٰی کا فرمان جانا " تمھارے پاس وہ ھے جو خرچ ھونے والا ھے اور جو اللہ کے پاس ھے وہ باقی رہ جانے والا ھے تو جو قیمتی چیز مجھے ھاتھ آئی خدا کی راہ میں لٹا دی تاکہ محفوظ ھو جائے ضائع نہ ھو
4: لوگوں کو دیکھا تو دنیاوی مال, حسب نصب, دنیا کو جاہ منصب میں پایا. غور کرنے پر یہ چیزیں ھیچ دکھائی دیں. اللہ کا کلام پڑھا, " تم میں سب سے زیادہ عزت دار وہ ھے جو سب سے زیادہ پرھیز گار ھے, تو میں نے تقویٰ اختیار کر لیا تاکہ رب کے یہاں عزت پاؤں
5: لوگوں میں یہ بھی دیکھا کہ لوگوں سے بدگمان رہتے ھیں دوسری طرف اللہ کا فرمان جانا, دنیا کی زندگی کے گزر بسر کے ذرئع توھم نے ان کے درمیان تقسیم کئے ھیں ، اس لئے حسد چھوڑ کر لوگوں سے کنارہ کیا اور یقین ھوا کہ قسمت صرف اللہ کے اختیار میں ھے خلق کی عداوت سے باز آیا
6: لوگوں کو دیکھا ایک دوسرے سے سرکشی اور کشت وخون کرتے ھیں اللہ سے رجوع کیا تو اس نے فرمایا, حقیقت میں شیطان تمھارا دشمن ھے اس لئے اسے ھی اپنا دشمن سمجھو ، اس بنا پر صرف اکیلے شیطان کو دشمن بنا لیا.اس بات کی کوشش کی کہ اس سے بچتا رھوں کیونکہ اس کی عداوت کی گواھی دی. لہٰذا میں نے مخلوق کی عداوت چھوڑ کر اپنا دل صاف کر لیا اور صرف شیطان سے عداوت کر لی
7 : لوگوں کو دیکھا کہ روٹی کے ٹکڑے پر اپنے نفس کو ذلیل کرتے ھیں جبکہ اللہ فرماتا ھے, زمین میں چلنے والا کوئی جاندار ایسا نہی جس کا رزق اللہ نے اپنے ذمے نہ کیا ھو ، پھر میں ان باتوں پر اللہ کا مشکور ھوا کہ اللہ کے جو حقوق میرے ذمے ھیں میں نے اس رزق کی طلب چھوڑ دی جو اللہ کے ذمے ھے
8: میں نے دنیا کو دیکھا ھر ایک کسی عارضی شے پر بھروسہ کر رھا ھے کوئی زمین کی, کوئی تجارت کی, کوئی پیسہ کی, کوئی بدن کی تندرستی کی, کوئی اپنی ذہنی اور علمی صلاحیت کی. ھر کوئی اپنی ھی طرح کی مخلوق پر بھروسہ کیے ھوئے ھے میں نے اللہ سے رجوع کیا تو پایا., جو اللہ پر بھروسہ کرتا ھے اس کے لیے وھی کافی ھے, تو میں نے اللہ پر توکل کیا ھے کیونکہ وھی مجھے کافی ھے
شیخ نے فرمایا, اے میرے پیارے شاگرد, خدا تمھیں اس کی توفیق دے. میں نے تورات ,انجیل اور قرآن کا جتنا مطالعہ کیا تو سب کو انہی آٹھ مثالوں پر پایا گویا یہ نچوڑ ھے آٹھ باتوں کا, گویا یہ نچوڑ ھے قرآن کا,
❤

No comments:
Post a Comment