Sunday, November 29, 2015

ایک ملک کاحکمران

ایک ﻣﻠﮏ ﮐﺎ ﺣﮑﻤﺮﺍﻥ ﺑﻨﺎﻧﮯ ﮐﺎ ﻃﺮﯾﻘﻪ ﺑﮩﺖ ﺍﻧﻮﮐﮭﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﻭﻩ ﻫﺮ ﺳﺎﻝ ﮐﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﺩﻥ ﺍﭘﻨﺎ ﺑﺎﺩﺷﺎﻩ ﺑﺪﻝ ﻟﯿﺘﮯ ﺗﮭﮯ۔ ﺳﺎﻝ ﮐﮯ ﺍٓﺧﺮﯼ ﺩﻥ ﺟﻮ ﺑﮭﯽﺳﺐ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯﻣﻠﮏ ﮐﯽ ﺣﺪﻭﺩ ﻣﯿﮟ ﺩﺍﺧﻞ ﻫﻮﺗﺎ ﺗﻮ ﺍﺳﮯ ﻧﯿﺎ ﺑﺎﺩﺷﺎﻩ ﻣﻨﺘﺨﺐ ﮐﺮ ﻟﯿﺘﮯ ﺍﻭﺭ ﻣﻮﺟﻮﺩﻩ ﺑﺎﺩﺷﺎﻩ ﮐﻮ ’ﻋﻼﻗﻪ ﻏﯿﺮ‘ ﯾﻌﻨﯽ ﺍﯾﮏ ﺍﯾﺴﯽ ﺟﮕﻪ ﭼﮭﻮﮌ ﺍٓﺗﮯ ﺟﻬﺎﮞ ﺻﺮﻑ ﺳﺎﻧﭗ، ﺑﭽﮭﻮ ﺗﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﮐﮭﺎﻧﮯ ﭘﯿﻨﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﮐﭽﮫ ﺑﮭﯽ ﻧﻪ ﺗﮭﺎ۔ ﺍﮔﺮ ﻭﻩ ﺳﺎﻧﭗ، ﺑﭽﮭﻮﻭﮞ ﺳﮯ ﮐﺴﯽ ﻧﻪ ﮐﺴﯽ ﻃﺮﺡ ﺍﭘﻨﮯ ﺁﭖ ﮐﻮ ﺑﭽﺎ ﻟﯿﺘﺎ ﺗﻮ ﺑﮭﻮﮎ ﭘﯿﺎﺱ ﺳﮯ ﻣﺮ ﺟﺎﺗﺎ۔ ﮐﺘﻨﮯ ﻫﯽ ﺑﺎﺩﺷﺎﻩ ﺍﯾﺴﮯ ﻫﯽ ﺍﯾﮏ ﺳﺎﻝ ﮐﯽ ﺑﺎﺩﺷﺎﻫﯽ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺍﺱ "ﻋﻼﻗﻪ ﻏﯿﺮ" ﻣﯿﮟ ﺟﺎ ﮐﺮ ﻣﺮ ﮐﮭﭗ ﮔﺌﮯ۔
ﺍﺱ ﺩﻓﻌﻪ ﺷﻬﺮ ﻣﯿﮟ ﺩﺍﺧﻞ ﻫﻮﻧﮯ ﻭﺍﻻ ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ ﮐﺴﯽ ﺩﻭﺭ ﺩﺭﺍﺯ ﮐﮯ ﻋﻼﻗﮯ ﮐﺎ ﻟﮓ ﺭﻫﺎ ﺗﮭﺎ ﺳﺐ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﻧﮯ ﺁﮔﮯ ﺑﮍﮪ ﮐﺮ ﺍﺳﮯ ﻣﺒﺎﺭﮎ ﺩﯼ ﺍﻭﺭ ﺍﺳﮯ ﺑﺘﺎﯾﺎ ﮐﻪ ﺁﭖ ﮐﻮ ﺍﺱ ﻣﻠﮏ ﮐﺎ ﺑﺎﺩﺷﺎﻩ ﭼﻦ ﻟﯿﺎ ﮔﯿﺎ ﻫﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﺳﮯ ﺑﮍﮮ ﺍﻋﺰﺍﺯ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﻣﺤﻞ ﻣﯿﮟ ﻟﮯ ﮔﺌﮯ، ﻭﻩ ﺣﯿﺮﺍﻥ ﺑﮭﯽ ﻫﻮﺍ ﺍﻭﺭ ﺑﮩﺖ ﺧﻮﺵ ﺑﮭﯽ۔ ﺗﺨﺖ ﭘﺮ ﺑﯿﭩﮭﺘﮯ ﻫﯿﮟ ﺍﺱ ﻧﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ ﮐﻪ ﻣﺠﮫ ﺳﮯ ﭘﮩﻼ ﺑﺎﺩﺷﺎﻩ ﮐﮩﺎﮞ ﮔﯿﺎ ﺗﻮ ﺩﺭﺑﺎﺭﯾﻮﮞ ﻧﮯ ﺍﺳﮯ ﺍﺱ ﻣﻠﮏ ﮐﺎ ﻗﺎﻧﻮﻥ
ﺑﺘﺎﯾﺎ ﮐﻪ ﻫﺮ ﺑﺎﺩﺷﺎﻩ ﮐﻮ ﺳﺎﻝ ﺑﻌﺪ ﺟﻨﮕﻞ ﻣﯿﮟ ﭼﮭﻮﮌ ﺩﯾﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﻫﮯ ﺍﻭﺭ ﻧﯿﺎ ﺑﺎﺩﺷﺎﻩ ﭼﻦ ﻟﯿﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﻫﮯ ﯾﻪ ﺳﻨﺘﮯ ﻫﯽ ﻭﻩ ﺍﯾﮏ ﺩﻓﻌﻪ ﺗﻮ ﭘﺮﯾﺸﺎﻥ ﻫﻮﺍ ﻟﯿﮑﻦ ﭘﮭﺮ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﻋﻘﻞ ﮐﻮ ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ ﮐﺮﺗﮯ ﻫﻮﺋﮯ ﮐﮩﺎ ﮐﻪ ﻣﺠﮭﮯ ﺍﺱ ﺟﮕﻪ ﻟﮯ ﮐﺮ ﺟﺎﺅ ﺟﮩﺎﮞ ﺗﻢ ﺑﺎﺩﺷﺎﻩ ﮐﻮ ﭼﮭﻮﮌ ﮐﺮ ﺁﺗﮯ ﻫﻮ۔ ﺩﺭﺑﺎﺭﯾﻮﮞ ﻧﮯ ﺳﭙﺎﻫﯿﻮﮞ ﮐﻮ ﺳﺎﺗﮫ ﻟﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺑﺎﺩﺷﺎﻩ ﺳﻼﻣﺖ ﮐﻮ ﻭﻩ ﺟﮕﻪ ﺩﮐﮭﺎﻧﮯ ﺟﻨﮕﻞ ﻣﯿﮟ ﻟﮯ ﮔﺌﮯ، ﺑﺎﺩﺷﺎﻩ ﻧﮯ ﺍﭼﮭﯽ ﻃﺮﺡ ﺍﺱ ﺟﮕﻪ ﮐﺎ ﺟﺎﺋﺰﻩ ﻟﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﻭﺍﭘﺲ ﺁ ﮔﯿﺎ۔
ﺍﮔﻠﮯ ﺩﻥ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺳﺐ ﺳﮯ ﭘﮩﻼ ﺣﮑﻢ ﯾﻪ ﺩﯾﺎ ﮐﻪ ﻣﺤﻞ ﺳﮯ ’ﻋﻼﻗﻪﻏﯿﺮ‘ ﺗﮏ ﺍﯾﮏ ﺳﺮﺳﺒﺰ ﻭ ﺷﺎﺩﺍﺏ ﺭﺍﺳﺘﻪ ﺑﻨﺎﯾﺎ ﺟﺎﺋﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﺟﮕﻪ ﮐﮯ ﺑﯿﭽﻮﮞ ﺑﯿﺞ ﺍﯾﮏ ﺍﯾﺴﯽ ﺭﻫﺎﺋﺶ ﺗﻌﻤﯿﺮ ﮐﯽ ﺟﺎﺋﮯ ﺟﺲ ﻣﯿﮟ ﻫﺮ ﻗﺴﻢ ﮐﯽ ﺳﻬﻮﻟﺖ ﻫﻮ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺍﺭﺩﮔﺮﺩ ﺧﻮﺑﺼﻮﺭﺕ ﺑﺎﻍ ﻟﮕﺎﺋﮯ ﺟﺎﺋﯿﮟ۔ ﺑﺎﺩﺷﺎﻩ ﮐﮯ ﺣﮑﻢ ﭘﺮ ﻋﻤﻞ ﻫﻮﺍ ﺍﻭﺭ ﺗﻌﻤﯿﺮ ﺷﺮﻭﻉ ﻫﻮﮔﺌﯽ، ﮐﭽﮫ ﻫﯽ ﻋﺮﺻﻪ ﻣﯿﮟ ﺳﮍﮎ ﺍﻭﺭ ﻣﺤﻞ ﻭﻏﯿﺮﻩ ﺑﻦ ﮐﺮ ﺗﯿﺎﺭ ﻫﻮ ﮔﺌﮯ۔
ﺍﯾﮏ ﺳﺎﻝ ﮐﮯ ﭘﻮﺭﮮ ﻫﻮﺗﮯ ﻫﯽ ﺑﺎﺩﺷﺎﻩ ﻧﮯ ﺩﺭﺑﺎﺭﯾﻮﮞ ﺳﮯ ﮐﮩﺎ ﮐﻪ ﺍﭘﻨﯽ ﺭﺳﻢ ﭘﻮﺭﯼ ﮐﺮﻭ ﺍﻭﺭ ﻣﺠﮭﮯ ﻭﻫﺎﮞ ﭼﮭﻮﮌ ﺁﺅ ﺟﻬﺎﮞ ﻣﺠﮫ ﺳﮯﭘﮩﻠﮯ ﺑﺎﺩﺷﺎﻫﻮﮞ ﮐﻮ ﭼﮭﻮﮌ ﮐﮯ ﺁﺗﮯ ﺗﮭﮯ۔ ﺩﺭﺑﺎﺭﯾﻮﮞ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﮐﻪ ﺑﺎﺩﺷﺎﻩ ﺳﻼﻣﺖ ﺍﺱ ﺳﺎﻝ ﺳﮯ ﯾﻪ ﺭﺳﻢ ﺧﺘﻢ ﻫﻮ ﮔﺌﯽ ﮐﯿﻮﻧﮑﻪ ﻫﻤﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﻋﻘﻞ ﻣﻨﺪ ﺑﺎﺩﺷﺎﻩ ﻣﻞ ﮔﯿﺎ ﻫﮯ، ﻭﻫﺎﮞ ﺗﻮ ﻫﻢ ﺍﻥ ﺑﮯﻭﻗﻮﻑ ﺑﺎﺩﺷﺎﻫﻮﮞ ﮐﻮ ﭼﮭﻮﮌ ﮐﺮ ﺁﺗﮯ ﺗﮭﮯ ﺟﻮ ﺍﯾﮏ ﺳﺎﻝ ﮐﯽ ﺑﺎﺩﺷﺎﻫﯽ ﮐﮯ ﻣﺰﮮ ﻣﯿﮟ ﺑﺎﻗﯽ
ﮐﯽ ﺯﻧﺪﮔﯽ کو ﺑﮭﻮﻝ ﺟﺎﺗﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﮯ ﻟﯿﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﺍﻧﺘﻈﺎﻡ ﻧﻪ ﮐﺮﺗﮯ، ﻟﯿﮑﻦ ﺁﭖ ﻧﮯ ﻋﻘﻠﻤﻨﺪﯼ ﮐﺎ ﻣﻈﺎﻫﺮﻩ ﮐﯿﺎ ﮐﻪ ﺁﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﻭﻗﺖ ﮐﺎ ﺧﯿﺎﻝ ﺭﮐﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﻋﻤﺪﻩ ﺑﻨﺪﻭﺑﺴﺖ ﻓﺮﻣﺎ ﻟﯿﺎ۔ ﻫﻤﯿﮟ ﺍﯾﺴﮯ ﻫﯽ ﻋﻘﻞ ﻣﻨﺪ ﺑﺎﺩﺷﺎﻩ ﮐﯽﺿﺮﻭﺭﺕ ﺗﮭﯽ ﺍﺏ ﺁﭖ ﺁﺭﺍﻡ ﺳﮯ ﺳﺎﺭﯼ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﻫﻢ ﭘﺮ ﺣﮑﻮﻣﺖ ﮐﺮﯾﮟ۔
*
ﺍﺱ ﺍﻧﻮﮐﮭﮯ ﻣﻠﮏ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ ’ﺩﻧﯿﺎ‘ ﻫﮯ؛ ﻭﻩ ﻧﯿﺎ ﺑﺎﺩﺷﺎﻩ ﻣﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺍٓﭖ ﻫﯿﮟ-
ﺍﻭﺭ "ﻋﻼﻗﻪ ﻏﯿﺮ"، ﻫﻤﺎﺭﯼ ﻗﺒﺮ ﻫﮯ۔
ﺍﺏ ﺁﭖ ﺧﻮﺩ ﻓﯿﺼﻠﻪ ﮐﺮ ﻟﯿﺠﯿﮯ ﮐﻪ ﮐﭽﮫ ﺩﻥ ﺑﻌﺪ ﻫﻤﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﯾﻪ ﺩﻧﯿﺎ ﻭﺍﻟﮯ ﺍﯾﮏ ﺍﯾﺴﯽ ﺟﮕﻪ ﭼﮭﻮﮌ ﺁﺋﯿﮟ ﮔﮯ ﺗﻮ ﮐﯿﺎ ﻫﻢ ﻧﮯ ﻋﻘﻞ ﻣﻨﺪﯼ ﮐﺎ ﻣﻈﺎﻫﺮﻩ ﮐﺮﺗﮯ ﻫﻮﺋﮯ ﻭﻫﺎﮞ ﺍﭘﻨﺎ ﻣﺤﻞ ﺍﻭﺭ ﺑﺎﻏﺎﺕ ﺗﯿﺎﺭ ﮐﺮﻟﯿﮯ ﻫﯿﮟ ﯾﺎ ﺑﮯ ﻭﻗﻮﻑ ﺑﻦ ﮐﺮ ﺍﺳﯽ ﭼﻨﺪ ﺭﻭﺯﻩ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﯽ ﻣﺰﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﻟﮕﮯ ﻫﻮﺋﮯ ﻫﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺩﻧﯿﺎﻭﯼ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﯽ ﺍﯾﮏ ﻣﺨﺼﻮﺹ ﻣﺪﺕ ﺷﺎﻫﯽ ﺍﻧﺪﺍﺯ ﺳﮯﮔﺰﺍﺭ ﮐﺮ ﺿﺎﺋﻊ ﮐﺮ ﺭﻫﮯ ﻫﯿﮟ
ﺫﺭﺍ ﺳﻮﭼﺌﮯ ﮐﻪ ﭘﮭﺮ ﭘﭽﮭﺘﺎﻧﮯ ﮐﯽ ﻣھﻠﺖ ﻧﻬﯿﮟ ﻣﻠﮯ ﮔﯽ۔
تنویر ملک

Friday, November 27, 2015

مچھلیوں کی بو

میرے استاد جی ایک دن مجھے قصہ سنا رہے تھے کہ "جہانگیر پتر میرا ایک رشتے دار یہاں کراچی میں نوکری کی غرض سے آیا اور فشری کے پاس ہی کسی علاقے میں رہنے کے لئے مکان لیا- اب وہاں مسئلہ یہ ہوا کہ مچھلیوں کی بو کی وجہ سے اس محلے میں قدم رکھنا بھی محال ہوتا تھا- اس نے سوچا کسی طرح بو کو ختم کر کے ہی رہوں گا۔۔۔۔۔۔اور پھر وہ روزانہ 2 سے 3 مرتبہ گھر دھوتا اور مختلف پرفیوم چھڑکتا اور پھر کچھ ہفتوں بعد بقول اس کے اس نے بو ختم کردی تو استاد جی کو اپنے گھر بلایا اور بڑے فخر سے کہا کہ دیکھو میرا گھر ہی کیا پورے محلے میں ہی کوئی بدبو نہیں رہی۔۔۔۔۔تو میں نے بھی اثبات میں سر ہلادیا پر جہانگیر پتر بدبو تو اب بھی آرہی تھی۔۔۔۔۔۔۔
ارے استاد جی جب بدبو آرہی تھی تو آپ نے اس کی بات پر اعتراض کیوں نہیں کیا اور اس نے جھوٹ کیوں بولا کہ بدبو نہیں آرہی ہے؟؟
"جہانگیر پتر دراصل بدبو میں رہتے رہتے اس کے دماغ نے اسے قبول کرلیا تھا اور جس چیز کو دماغ قبول کر لے پھر چاہے وہ کچھ بھی ہو اس کا نقص مرجاتا ہے ویسے ہی دماغ نے اس بو کو قبول کر لیا تھا لٰہذا وہ اس کی نظر میں بدبو ہی نہیں رہی تو اسے کیا سمجھ لگتی یا میں کیا سمجھاتا؟؟
آج یہ واقعہ کچھ دوستوں کی حالت پر پورا اترتا ہے- بے حیائی دیکھتے دیکھتے ان کا دماغ اس کے زیر اثر آگیا ہے لہٰذا اب انہیں بے حیائی روشن خیالی اور جدت پسندی دیکھنے لگی ہے کیونکہ ان کے دماغ نے اسے قبول کر لیا ہے ان کے پاس ہزاروں خود ساختہ وجوہات ہیں یہ بتانے کی کہ بوسہ لینا تو بےحیائی ہے ہی نہیں اور پھر جیسے جیسے یہ "سلو پوائزن" اپنا اثر دکھاتا رہے گا ان کی حیا والی حس مرتی جائے گی اور ایک دن یہ بے لباسی کو بھی بے حیائی کے زمرے سے نکال پھینکیں گے جیسے مغرب آج کرچکا ہے۔۔۔۔۔۔
میرے سوہنے نبی صلی اللہ علیہ وآل وسلم نے صدیوں پہلے ہی کہہ دیا تھا
"جب تم حیا نہ کرو تو جو چاہے کرو- (الحدیث)"
ملک جہانگیر اقبال کی کتاب پیچیدہ تخلیق سے اقتباس

جو کرتا ہے تو چھپ کر اہل جہاں سے
کوئی دیکھتا ہے تجھے آسماں سے ۔۔۔

Tuesday, November 24, 2015

شقیق بہقی

شفیق بہقی نے اپنے شاگرد سے پوچھا تم کتنے سال سے میرے ساتھ ھو?
شاگرد نے جواب دیا 33سال سے
, فرمایا, اتنے لمبے عرصے میں مجھ سے کیا سیکھا?
 بولے صرف آٹھ باتیں,
 شیخ کہنے لگے انّا للٰہ وانّا الَیہ راجِعُون, تو نے صرف آٹھ باتیں سیکھیں?
 شاگرد بولا, زیادھ نہی سیکھ سکا جھوٹ بھی نہی بول سکتا, شیخ بولے بتاؤ کیا آٹھ باتیں سیکھیں
? بولے 

١:مخلوق کو دیکھا تو معلوم ھوا ھر کسی کا محبوب ھوتا ھے قبر تک اپنے محبوب کے ساتھ رہتا ھے جب قبر میں جا پہنچتا ھے تو محبوب سے جدا ھو جاتا ھے, اس لئے میں نے اپنا محبوب نیکیوں کو بنا لیا تاکہ وہ قبر میں میرے ساتھ رھیں 
2: جس نے اپنے رب کے سامنے کھڑے ھونے کا خوف کھایا اور نفس کو بُری خواھش سے روکا اس کا ٹھکانہ جنّت ھوگا, یہ آیت سنی تو اپنے نفس کو لگام دی یہاں تک کہ میرا نفس اطاعت الٰھی پر جم گیا 
3: لوگوں کو دیکھا کہ کسی کے پاس قیمتی شے ھے تو سنبھال کر رکھتا ھے اس کی حفاظت کرتا ھے پھر اللہ تعالٰی کا فرمان جانا " تمھارے پاس وہ ھے جو خرچ ھونے والا ھے اور جو اللہ کے پاس ھے وہ باقی رہ جانے والا ھے تو جو قیمتی چیز مجھے ھاتھ آئی خدا کی راہ میں لٹا دی تاکہ محفوظ ھو جائے ضائع نہ ھو 
4: لوگوں کو دیکھا تو دنیاوی مال, حسب نصب, دنیا کو جاہ منصب میں پایا. غور کرنے پر یہ چیزیں ھیچ دکھائی دیں. اللہ کا کلام پڑھا, " تم میں سب سے زیادہ عزت دار وہ ھے جو سب سے زیادہ پرھیز گار ھے, تو میں نے تقویٰ اختیار کر لیا تاکہ رب کے یہاں عزت پاؤں
 5: لوگوں میں یہ بھی دیکھا کہ لوگوں سے بدگمان رہتے ھیں دوسری طرف اللہ کا فرمان جانا, دنیا کی زندگی کے گزر بسر کے ذرئع توھم نے ان کے درمیان تقسیم کئے ھیں ، اس لئے حسد چھوڑ کر لوگوں سے کنارہ کیا اور یقین ھوا کہ قسمت صرف اللہ کے اختیار میں ھے خلق کی عداوت سے باز آیا 
6: لوگوں کو دیکھا ایک دوسرے سے سرکشی اور کشت وخون کرتے ھیں اللہ سے رجوع کیا تو اس نے فرمایا, حقیقت میں شیطان تمھارا دشمن ھے اس لئے اسے ھی اپنا دشمن سمجھو ، اس بنا پر صرف اکیلے شیطان کو دشمن بنا لیا.اس بات کی کوشش کی کہ اس سے بچتا رھوں کیونکہ اس کی عداوت کی گواھی دی. لہٰذا میں نے مخلوق کی عداوت چھوڑ کر اپنا دل صاف کر لیا اور صرف شیطان سے عداوت کر لی 
7 : لوگوں کو دیکھا کہ روٹی کے ٹکڑے پر اپنے نفس کو ذلیل کرتے ھیں جبکہ اللہ فرماتا ھے, زمین میں چلنے والا کوئی جاندار ایسا نہی جس کا رزق اللہ نے اپنے ذمے نہ کیا ھو ، پھر میں ان باتوں پر اللہ کا مشکور ھوا کہ اللہ کے جو حقوق میرے ذمے ھیں میں نے اس رزق کی طلب چھوڑ دی جو اللہ کے ذمے ھے 
8: میں نے دنیا کو دیکھا ھر ایک کسی عارضی شے پر بھروسہ کر رھا ھے کوئی زمین کی, کوئی تجارت کی, کوئی پیسہ کی, کوئی بدن کی تندرستی کی, کوئی اپنی ذہنی اور علمی صلاحیت کی. ھر کوئی اپنی ھی طرح کی مخلوق پر بھروسہ کیے ھوئے ھے میں نے اللہ سے رجوع کیا تو پایا., جو اللہ پر بھروسہ کرتا ھے اس کے لیے وھی کافی ھے, تو میں نے اللہ پر توکل کیا ھے کیونکہ وھی مجھے کافی ھے 
شیخ نے فرمایا, اے میرے پیارے شاگرد, خدا تمھیں اس کی توفیق دے. میں نے تورات ,انجیل اور قرآن کا جتنا مطالعہ کیا تو سب کو انہی آٹھ مثالوں پر پایا گویا یہ نچوڑ ھے آٹھ باتوں کا, گویا یہ نچوڑ ھے قرآن کا,

❤

ضرور پڑھیئے !" تاریخ فتوحات گنتی ھے ' دستر خوان پر پڑے انڈے ' جیم اور مکھن نہیں

ضرور پڑھیئے !
" تاریخ فتوحات گنتی ھے ' دستر خوان پر پڑے انڈے ' جیم اور مکھن نہیں______________!!"




یہ 1973ء کی بات ھے.
عربوں اور اسرائیل کے درمیان جنگ چھڑنے کو تھی.. ایسے میں ایک امریکی سینیٹر ایک اھم کام کے سلسلے میں اسرائیل آیا.. وہ اسلحہ کمیٹی کا سربراہ تھا.. اُسے فوراً اسرائیل کی وزیراعظم "گولڈہ مائیر" کے پاس لے جایا گیا..
گولڈہ مائیر نے ایک گھریلو عورت کی مانند سینیٹر کا استقبال کیا اور اُسے اپنے کچن میں لے گئی.. یہاں اُس نے امریکی سینیٹر کو ایک چھوٹی سی ڈائینگ ٹیبل کے پاس کرسی پر بٹھا کر ' چولہے پر چائے کیلئے پانی رکھ دیا اور خود بھی وھیں آبیٹھی..
اُس کے ساتھ اُس نے توپوں ' طیاروں اور میزائلوں کا سودا شروع کر دیا.. ابھی بھاؤ تاؤ جاری تھا کہ اُسے چائے پکنے کی خوشبو آئی..
وہ خاموشی سے اُٹھی اور چائے دو پیالیوں میں اُنڈیلی..
ایک پیالی سینیٹر کے سامنے رکھ دی اور دوسری گیٹ پر کھڑے امریکی گارڈ کو تھما دی..
پھر دوبارہ میز پر آ بیٹھی اور امریکی سینیٹر سے محو کلام ھو گئی..
چند لمحوں کی گفت و شنید اور بھاؤ تاؤ کے بعد شرائط طے پاگئیں..
اس دوران گولڈہ مائیر اُٹھی ' پیالیاں سمیٹیں اور اُنہیں دھو کر واپس سینیٹر کی طرف پلٹی اور بولی..
"مجھے یہ سودا منظور ھے.. آپ تحریری معائدے کیلئے اپنا سیکرٹری میرے سیکرٹری کے پاس بھجوا دیجئے.."
یاد رھے کہ اسرائیل اُس وقت اقتصادی بحران کا شکار تھا مگر گولڈہ مائیر نے کتنی "سادگی" سے اسرائیل کی تاریخ میں اسلحے کی خریداری کا اتنا بڑا سودا کر ڈالا..
حیرت کی بات یہ ھے کہ خود اسرائیلی کابینہ نے اس بھاری سودے کو رد کردیا.. اُس کا مؤقف تھا اِس خریداری کے بعد اسرائیلی قوم کو برسوں تک دن میں ایک وقت کھانے پر اکتفا کرنا پڑے گا..
گولڈہ مائیر نے کابینہ کے ارکان کا مؤقف سُنا اور کہا..
" آپ کا خدشہ درست ھے لیکن اگر ھم یہ جنگ جیت گئے اور ھم نے عربوں کو پسپائی پر مجبور کردیا تو تاریخ ھمیں فاتح قرار دے گی..
اور تاریخ جب کسی قوم کو فاتح قرار دیتی ھے تو بھول جاتی ھے کہ جنگ کے دوران فاتح قوم نے کتنے انڈے کھائے تھے اور روزانہ کتنی بار کھانا کھایا تھا..
اُس کے دستر خوان پر شہد ' مکھن ' جیم تھا یا نہیں..
اور اُن کے جوتوں میں کتنے سوراخ تھے یا اُن کی تلواروں کی نیام پھٹے پرانے تھے..
فاتح صرف فاتح ھوتا ھے.."
گولڈہ مائیر کی دلیل میں وزن تھا لہٰذا اسرائیلی کابینہ کو اِس سودے کی منظوری دینا پڑی..
آنیوالے وقت نے ثابت کردیا کہ گولڈہ مائیر کا اِقدام درست تھا اور پھر دنیا نے دیکھا ' اُسی اسلحے اور جہازوں سے یہودی عربوں کے دروازوں پر دستک دے رھے تھے..
جنگ ھوئی اور عرب ایک بوڑھی عورت سے شرمناک شکست کھا گئے.. (یہ بھی ایک عجیب حقیقت ھے کہ امت مسلمہ کو بیسویں صدی میں ٹکڑوں میں تقسیم کردینے میں دو عورتوں کا ھاتھ رھا..
یعنی عربوں کو ختم کرنے میں گولڈہ مائیر کا اور عجم کے مسلمانوں کو شکست دینے میں اندرا گاندھی کا..)
جنگ کے ایک عرصہ بعد واشنگٹن پوسٹ کے نمائندے نے گولڈہ مائیر کا انٹرویو لیا اور سوال کیا.. "امریکی اسلحہ خریدنے کیلئے آپ کے ذھن میں جو دلیل آئی تھی وہ فوراً آپ کے ذھن میں آئی تھی یا پہلے سے حکمت عملی تیار کررکھی تھی..؟"
گولڈہ مائیر نے جو جواب دیا چونکا دینے والا ھے.. وہ بولی..
"میں نے یہ استدلال اپنے دشمنوں (مسلمانوں) کے نبی ( محمد صلی اللہ علیہ وسلم) سے لیا تھا..
میں جب طالبہ تھی تو مذاھب کا موازنہ میرا پسندیدہ موضوع تھا..
اُنہی دنوں میں نے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کی سوانح حیات پڑھی..
اُس کتاب میں مصنف نے ایک جگہ لکھا تھا کہ
#جب_محمد_صلی_اللہ_علیہ_وسلم_کا_وصال_ھوا
تو اُن کے گھر میں اِتنی رقم نہیں تھی #کہ_چراغ_جلانے_کیلئے_تیل_خریدا_جاسکے لہٰذا اُن کی اھلیہ عائشہ (صدیقہ رضی اللہ عنہا) نے اُن کی زرہ بکتر رھن رکھ کر تیل خریدا
#لیکن_اُس_وقت_بھی_محمد_صلی_اللہ_علیہ_وسلم_کے_حجرے_کی_دیواروں_پر_نو_تلواریں_لٹک_رھی_تھیں
میں نے جب واقعہ پڑھا تو میں نے سوچا کہ دنیا میں کتنے لوگ ھونگے جو مسلمانوں کی پہلی ریاست کی کمزور اقتصادی حالت کے بارے میں جانتے ھونگے..
لیکن مسلمان آدھی دنیا کے فاتح ھیں ' یہ بات پوری دنیا جانتی ھے..
لہٰذا میں نے فیصلہ کیا کہ اگر مجھے اور میری قوم کو برسوں بھوکا رھنا پڑے ' پختہ مکانوں کی بجائے خیموں میں زندگی بسر کرنا پڑے ' تو بھی اسلحہ خریدیں گے ' خود کو مضبوط ثابت کرینگے اور فاتح کا اعزاز پائیں گے.."
گولڈہ مائیر نے اِس حقیقت سے تو پردہ اُٹھایا مگر ساتھ ھی انٹرویو نگار سے درخواست کی کہ اِسے " آف دی ریکارڈ " رکھا جائے اور شائع نہ کیا جائے..
وجہ یہ تھی کہ مسلمانوں کے نبی (محمد صلی اللہ علیہ وسلم) کا نام لینے سے جہاں اس کی قوم اس کے خلاف ھو سکتی ھے وھاں دنیا کے مسلمانوں کے مؤقف کو تقویت ملے گی..
چنانچہ واشنگٹن پوسٹ کے نمائندے نے یہ واقعہ حذف کر دیا..
پھر وقت دھیرے دھیرے گزرتا رھا..
یہاں تک کہ گولڈہ مائیر انتقال کر گئی اور وہ انٹرویو نگار بھی عملی صحافت سے الگ ھو گیا.. اس دوران ایک اور نامہ نگار ' امریکہ کے بیس بڑے نامہ نگاروں کے انٹرویو لینے میں مصروف تھا..
اُس سلسلے میں وہ اُسی نامہ نگار کا انٹرویو لینے لگا جس نے واشنگٹن پوسٹ کے نمائندے کی حیثیت سے گولڈہ مائیر کا انٹرویو لیا تھا.. اُس انٹرویو میں اُس نے گولڈہ مائیر کا واقعہ بھی بیان کردیا جو سیرت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق تھا.. اُس نے کہا..
"اُسے اَب یہ واقعہ بیان کرنے میں کوئی شرمندگی محسوس نہیں ھو رھی ھے.."
گولڈہ مائیر کا انٹرویو لینے والے نے مزید کہا..
"میں نے اِس واقعہ کے بعد جب تاریخِ اسلام کا مطالعہ کیا تو میں عرب بدوؤں کی جنگی حکمت عملیاں دیکھ کر حیران رہ گیا..
کیونکہ مجھے معلوم ھوا کہ وہ طارق بن زیاد جس نے جبرالٹر (جبل الطارق) کے راستے اسپین فتح کیا تھا اُس کی فوج کے آدھے سے زیادہ مجاھدوں کے پاس پورا لباس نہیں تھا..
وہ بہتَر بہتَر (72) گھنٹے ایک چھاگل پانی اور سوکھی روٹی کے چند ٹکڑوں پر گزارا کرتے تھے.. یہ وہ موقع تھا جب گولڈ مائیر کا انٹرویو نگار قائل ھوگیا کہ
" تاریخ فتوحات گنتی ھے ' دستر خوان پر پڑے انڈے ' جیم اور مکھن نہیں______________!!

Friday, November 13, 2015

خطہ بدترین جنگ کی لپیٹ میں آجائیگا،اسفندیارولی نے انتباہ کردیا

خطہ بدترین جنگ کی لپیٹ میں آجائیگا،اسفندیارولی نے انتباہ کردیا

پشاور(نیوزڈیسک)عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ اسفندیار ولی خان نے ملکی حالات کو تشویشناک قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ” ڈو مور “ کی آوازیں پہلے باہر سے آرہی تھیں تاہم اب اس قسم کا مطالبہ ملک کے اندر سے بھی ہونے لگا ہے جو کہ اس جانب اشارہ ہے کہ پاکستان کو بیرونی چیلنجز کے علاوہ اندرونی عدم استحکام اور محاذ آرائی کا بھی سامنا ہے۔ شیخ کلے میں اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے اُنہوں نے کہا کہ ملک کے سیاسی اور ریاستی حالات د گردوں ہیں اور اب تو حالت یہ ہے کہ ڈومور کی جو آوازیں پہلے باہر سے آرہی تھیں اب وہ ملک کے اندر سے بھی آنے لگی ہیں جس پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔اُنہوں نے کہا کہ پاکستان کے حالات اس وقت تک درست نہیں ہو سکتے جب تک افغانستان میں استحکام اور امن نہیں آتا اور اس کے لیے لازمی ہے کہ دونوں ممالک اپنے اتحادیوں کے ہمراہ دہشتگردی کے خاتمے اور علاقائی مفاہمت کیلئے باہمی روابط اور اعتماد سازی پر فوری توجہ دیں ورنہ خطہ ایک بد ترین جنگ کی لپیٹ میں آ جائیگا جس سے نہ صرف افغانستان بلکہ پاکستان بھی بری طرح متاثر ہو گااور اس پس منظر میں فاٹا کے معاملات کو بھی دیکھنے کی ضرورت ہے۔ اے این پی کے سربراہ نے مزید کہا کہ پاکستان کے حالات د گردوں ہیں اور اصلاح احوال کی کوئی مستقل یا سنجیدہ صورت نظر نہیں آرہی اس کو سنگین نوعیت کے اندرونی اور بیرونی چیلینجز کا سامنا ہے تاہم بحرانوں سے نکلنے کے اقدامات نظر نہیں آ رہے۔ اُنہوں نے کہا کہ خطے کے حالات اور متوقع علاقائی خطرات سے نکلنے کیلئے ٹھوس سیاسی اور ریاستی پالیسیاں اور اقدامات ناگزیر ہیں اور اس کے لیے سنجیدہ پالیسیوں ، بہتر سفارتکاری اور سیاسی مشاورت کی اشد ضرورت ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ کاریڈور کے ایشو پر حکومت کی مہم اور غیر ذمہ دارانہ رویے سے فاٹا اور پختونخوا کے عوام تشویش میں مبتلا ہیں۔ تحریک انصاف کی پالیسیوں اور طرز عمل پر تنقید کرتے ہوئے اسفندیار ولی خان نے کہا کہ ہمارا صوبہ بدقسمتی سے ایک ایسی لیڈر شپ کے ہاتھ میں ہے جن کو نہ تو عوامی خواہشات ، درپیش چیلینجز اور روایات کا کوئی ادراک ہے اور نہ ہی ان میں معاملات چلانے کی صلاحیت موجود ہے اس کی تازہ مثال صوبائی حکومت کا وہ افسوسناک رویہ ہے جو کہ افغانستان کے ایک اعلیٰ سطحی وفد کیساتھ اپنایا گیا۔ اُنہوں نے کہا کہ کپتان مک مکا اور یوٹرن کی پالیسیوں پر عمل پیرا ہیں اور قومی وطن پارٹی کو حکومت سے نکالنے اور اب دوبارہ شامل کرنے کا اقدام اس یوٹرن کی نئی مثال ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ احتساب کے نام پر کردار کشی اور انتقامی کارروائیاں ناقابل برداشت ہیں اور کسی قیمت پر اس کی اجازت نہیں دی جائیگی۔اُنہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ کو ان کے اپنے وزراء، ممبران اسمبلی اور پارٹی لیڈر شپ کی جانب سے کرپشن اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے الزامات کا سامنا ہے تاہم عمران خان نے اس معاملے پر مکمل خاموشی اختیار کی ہوئی ہے اور وزیر اعلیٰ دوسروں کے علاوہ اپنے وزراءاور ممبران کو بھی انتقام کا نشانہ بناتے آئے ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ کسی کو بھی یہ اجازت نہیں دی جاسکتی کہ وہ سیاست اور صوبے کے مفادات کو انتقام کی بھینٹ چڑھائیں۔ جلسہ عام سے اے این پی چارسدہ کے صدر اور سابق صوبائی وزیر بیرسٹر ارشد عبداللہ نے بھی خطاب کیا۔

پاکستان کرکٹ بورڈ نے شاہد آفریدی کو سخت وارننگ جاری کردی

کستان کرکٹ بورڈ نے شاہد آفریدی کو سخت وارننگ جاری کردی

لاہور(نیوزڈیسک)عمراکمل کے بعد شاہد آفریدی نے نیاچاندچڑھادیا. پاکستان کرکٹ بورڈ نے شاہد آفریدی کو سخت وارننگ جاری کردی ہے۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان کرکٹ بورڈ کی جانب سے قومی ٹی ٹوئنٹی ٹیم کے کپتان شاہد آفریدی کو سخت وارننگ جاری کی گئی ہے۔ شاہد آفریدی کو کرکٹ بورڈ کے پالیسی معاملات سے متعلق میڈیا میں بیان دینے پر وارننگ جاری کی گئی ہے۔ شاہد آفریدی کی جانب سے پاک بھارت سیریز کے حوالے سے بیان دیا گیا تھا۔ شاہد آفریدی کا کہنا ہے کہ اگر فائدہ ہو تو بھارت جا کر سیریز کھیلنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔

Wednesday, November 11, 2015

دل کو چھو لینے والا اور ضمیر کو جھنجھوڑنے والا واقعہ

💕دل کو چھو لینے والا اور ضمیر کو جھنجھوڑنے والا واقعہ💕

🌌رات کا آخری پہر تھا اور تیز بارش 💦 کے ساتھ ساتھ  سردی کا تو پوچھیئے ہی مت ہڈیوں میں گھسی جا رہی تھی  میں اپنی کار میں 🚗 ایک دوسرے شہر سے کاروباری دورے سے واپس اپنے شہر آ رہا تھا  کار کے دروازے بند ہونے کے باوجود سردی محسوس ہو رہی تھی  ⚡
💞دل میں ایک ہی خواہش تھی کہ بس جلدی سے گھر پہنچ جاؤں🏡  اور بستر میں گھس کر سو جاؤں سڑکیں بالکل سنسان تھی🚦 یہاں تک کہ کوئی جانور بھی نظر نہیں آ رہا تھا  لوگ اس سرد موسم میں  اپنے گرم بستروں میں دبکے ہوئے تھے..
جیسے ہی میں نے کار اپنی گلی کی طرف موڑی 🚘 تو مجھے کار کی روشنی میں بھیگتی بارش میں ایک سایہ نظر آیا 👤 اس نے بارش سے بچنے کے لیئے ☔ سر پر پلاسٹیک کے تھیلے جیسا کچھ اوڑھ رکھا تھا  اور وہ گلی میں رکے ہوئے پانی سے بچتے ہوئے  آہستہ آہستہ جا رہا تھا 🐾
مجھے بہت حیرانی ہوئی 🌀 کہ اس موسم میں جب کہ رات کا بالکل آخری وقت ہے 🌌 کون اپنے گھر سے باہر۔نکل  سکتا ہے  مجھے اس پر ترس آیا کہ پتا نہیں کس مجبوری نے اس کو  ایسی طوفانی بارش میں باہر نکلنے پر مجبور کیا ہے ❗
💭ھو سکتا ہے کہ گھر میں کوئی بیمار ہوگا  اور اسے اسپتال لے جانے کے لیئے  کوئی سواری ڈھونڈ رہا ہوگا 💭

میں نے اس کے قریب جاکر گاڑی روکی اور شیشا نیچے کر کے پوچھا ❓

❔کیا بات ہے بھائی صاحب آپ کہاں جا رہے ہو سب ٹھیک تو ہے ایسی کونسی مجبوری آ گئی کہ  ایسی تیز بارش  💦 اور اتنی دیر رات سردی میں آپکو  باہر نکلنا پڑا  آئیے میں آپ کو چھوڑ دیتا ہوں  
اس نے میری طرف دیکھ کر مسکراتے ہوئے کہا 💬👤
بھائی بہت بہت شکریہ  میں یہاں قریب ہی جا رہا ہوں  اس لیئے پیدل ہی چلا جاؤنگا 🐾
میں نے پوچھا  لیکن آپ ایسی سردی اور بارش میں جا کہاں رہے ہو❔

(اس نے کہا مسجد)

میں نے پوچھا اس وقت🕔 مسجد میں جاکر کیا کروگے ❓

تو اس نے جواب دیا کہ میں👈🏻 اس مسجد میں مؤذن ہوں اور فجر کی 📢اذان دینے کے لیئے جا رہا ہوں

🐾یہ کہہ کر وہ اپنے راستہ پر چل پڑا  اور مجھے✨ ایک نئی سوچ میں گم کر گیا 💭

❓❔کیا آج تک ہم نے یہ سوچا ہے سخت سردی کی رات میں 🌌 طوفان ہو🌀 یا بارش💦  کون ہے جو اپنے  وقت پر اللہ کے بلاوے کی صدا بلند کرتا ہے کون ہے جو آواز بلند کرتا ہے کہ  آؤ نماز کی طرف آؤ کامیابی کی طرف اور اسے اس کامیابی کا کتنا یقین ہے کہ اسے اس فرض ادا کرنے سے نا تو سردی روک سکتی ہے اور ناہی بارش❗
🌍جب ساری دنیا اپنے گرم بستروں میں نیند کے مزے لے رہی ہوتی ہے  تب وہ اپنا فرض ادا کرنے کے لیئے اٹھ جاتا ہے 🍃
❔💭اور آج تک ہم نے کبھی یہ سوچا ہے کہ ان کی تنخواہ 💶 کتنی ہوگی  شاید 💷4000 سے 6000 💵روپیئے  ایک مزدور بھی روزانہ 💶 400 روپیئے کے مطابق مہینہ 12000 💷روپیئے کما لیتا ہے ؟

🔆تب مجھے یقین ہوا کہ ایسے ہی لوگ ہیں جن کی وجہ سے  اللہ ہم پر مہربان ہے..میرا دل ❤ چاہا کہ  نیچے اتر کر اس کو گلے لگاؤں  لیکن وہ جا چکا تھا⬅
🕥اور تھوڑی ہی دیر کے بعد 🌃 فضا اللہ اکبر کی صدا سے گونج اٹھی  اور میرے قدم🐾 گھر جانے کے بجاے مسجد کی طرف اٹھ گئے  🐾 اور آج مجھے سردی میں نماز کے لیئے جانا گرم بستر اور نیند سے بھی زیادہ اچھا لگتا ہے 💓

Tuesday, November 10, 2015

سعید اجمل کا مشکل دور

  منگل 10 نومبر 2015

بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے کے مصداق اب یونیورسٹی انتظامیہ کو بھی سعید اجمل کی موجودگی گراں گُذر رہی ہے۔ فوٹو:فائل
یہ آج سے تقریباً 3 سال پہلے 10 جنوری 2013 کی بات ہے۔ سعید اجمل اپنےعروج پر تھے۔ ہر طرف ان کی جادوگرانہ باؤلنگ کا چرچا تھا۔ ایسے میں سعید اجمل کو خیال آیا کہ کیوں نہ اپنی اس صلاحیت کو قوم کے نونہالوں تک پہنچایا جائے، یہ بھی سعید اجمل کا بڑا پن تھا کہ اُنہیں اپنے عروج میں دوسروں کا خیال تھا ورنہ یہ خیال عموماً عروج کا نشہ اُتر کر ہی آتا ہے، اتنا بڑا کھلاڑی وطن کی خدمت کرنا چاہے اور کوئی اُس کی مدد نہ کرے، خصوصاً جب میڈیا کی بھرپور کوریج اور داد و تحسین سمیٹنے کا امکان بھی ہو، کیسے ممکن ہے۔
ایسے میں زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کی انتظامیہ میدانِ عمل میں آئی اور فیصل آباد کے سپوت کے لئے 8 ایکڑ زمین وقف کرنے کا اعلان کردیا۔ اکیڈمی کی تعمیر کا تخمینہ 70 ملین روپے لگایا گیا۔ اکیڈمی کی ابتدا کرنے کے لئے سعید اجمل نے 30 ملین روپے اپنی جیب سے لگائے جبکہ 10 ملین حکومت کی طرف سے عطیہ کئے گئے۔
لیکن پھر حالات نے کروٹ لی۔ سعید اجمل آئی سی سی کے نئے قوانین کی بھینٹ چڑھ گئے۔ دنیا کے نمبر ایک اسپن گیند باز کا باؤلنگ ایکشن پہلے مشکوک قرار دیا گیا اور پھر اُنہیں پابندی کا سامنا کرنا پڑا۔ سعید اجمل نے ہمت نہ ہاری اور ثقلین مشتاق کی مدد سے اپنا ایکشن کلیئر کروایا، لیکن نئے ایکشن کے ساتھ وہ انٹرنیشنل کرکٹ میں پہلے کی طرح موثر ثابت نہ ہوئے۔ اُنہیں ٹیم سےعلیحدہ کردیا گیا حالانکہ شائقین کرکٹ کا خیال تھا کہ اُن کی سابقہ خدمات کو مدنظر رکھتے ہوئے اُنہیں مزید مواقع دینے چاہیئے تھے تاکہ وہ اپنے نئے ایکشن کے ساتھ اعتماد حاصل کرنے میں جلد از جلد کامیاب ہوجائیں اور اُن پر کارکردگی دکھانے کا جو دباؤ تھا وہ کم ہوجاتا، لیکن ایسا نہیں ہوا۔ ویسے تو یہ پاکستان میں پہلی دفعہ نہیں ہوا، اس سے پہلے بھی پاکستان کرکٹ بورڈ پر کھلاڑیوں کے کیرئیر وقت سے پہلے ختم کرنے کے الزامات لگتے رہے ہیں، ان کھلاڑیوں میں محمد یوسف، شعیب اختر اورعبدالرزاق جیسے عظیم کھلاڑی بھی شامل ہیں جنہیں باعزت طور پر ریٹائر ہونے کا موقع بھی نہیں دیا گیا۔
سعید اجمل کو اِن مشکل وقت میں پی سی بی کی طرف سے جس اخلاقی مدد کی ضرورت تھی وہ اُنہیں نہیں ملی اور اپنے دل کی بھڑاس نکالنے کے لئے اُنہیں میڈیا کا سہارا لینا پڑا۔ چند دن پہلے اُنہوں نے الزام لگایا کہ بھارتی کرکٹر ہربھجن سنگھ اور روی چندن ایشون کے باؤلنگ ایکشن بھی مشکوک ہیں، لیکن انٹرنیشنل کرکٹ کونسل اُن کے خلاف کوئی ایکشن نہیں لے رہی، اور اِس کی وجہ یہ ہے کہ بھارتی بورڈ اِن کھلاڑی کی پشت پر کھڑی ہے، جبکہ اُن کا کیس پی سی بی نے اچھی طرح نہیں لڑا۔
بس یہ بیان دینے کی ضرورت تھی اور پی سی بی حرکت میں آگیا اور جادوئی اسپنر کو اپنے بیان کے حوالے سے وضاحت دینے کا کہا گیا۔ پھر مشکلات کے اس دور میں اک نئی مشکل کا اضافہ اس وقت ہوا جب زرعی یونیورسٹی انتظامیہ نے اُنہیں اکیڈمی خالی کرنے کا حکم دے دیا۔ بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے کے مصداق اب یونیورسٹی انتظامیہ کو بھی سعید اجمل کی موجودگی گراں گذر رہی ہے، شاید وہ بھی اب کسی نئے ہیرو اور نئے فوٹوسیشن کی تلاش میں ہیں۔ سعید اجمل نے بتایا کہ اکیڈمی میں 400 نوجوان کھلاڑی زیرِ تربیت ہیں اور اب تک وہ 60 ملین روپے ذاتی خرچ کرچکے ہیں۔ اُنہوں نے دھمکی دی کہ اگر اُنہیں اکیڈمی کا انتظام نہیں دیا گیا تو وہ اکیڈمی سے اپنا سامان اُٹھانے کے بجائے اُسے آگ لگادیں گے۔
ستم ظریفی دیکھیں کہ ایسے ملک میں جہاں دوسری ٹیمیں اور کوچز آتے ہوئے ڈرتے ہوں اور ایک شخص جس کے لئے دنیا کی کسی بھی ٹیم کی کوچنگ حاصل کرنا کچھ مشکل نہ ہو، وہ جذبہ حب الوطنی کے تحت اپنی جیب سے پیسے خرچ کرکے قوم کی خدمت کررہا ہے، اور ایسے میں اُس کی بھرپور حمایت کے بجائے اُسے کام کرنے سے ہی رونا جارہا ہے۔ جب اپنے محسنوں اور ہیروز کے ساتھ ایسا سلوک کیا جائے گا تو بھلا ہم کس طرح ترقی کرسکتے ہیں؟
اس مشکل وقت میں ہم سب کو سعید اجمل کے ساتھ اظہار یکجہتی کرنا چاہیئے، تاکہ ان جیسے وطن کا درد رکھنے والے گنے چنے لوگ بھی وطن سے دوری اختیار کرنے پر مجبور نہ ہوجائیں اور یونیورسٹی انتظامیہ کو بھی اخلاقیات کا پاس کرتے ہوئے اپنا فیصلہ واپس لینا چاہیئے
۔

Monday, November 9, 2015

Earn Money Online


You can now earn money online via internet in the range of 50,000 Rs to 100,000 Rs per month by following all the methods on this website. Making Money on Internet from home. Is it a Myth? Makemoney.pk website is dedicated for teaching people how to make REAL money online. The concept to make money online via internet is not new, but it not been as popular here. There are a hand full of people who knows how to make money on internet working from home. But this a real fact that if you learn this art, you can make more than 100,000 Rupees / 1200$ every month online. There are many people who are making handsome money using online marketing methods, not in thousands dollars ($), but many people in USA are making millions per month via these methods. So I would like to share few such methods with you, which can be very useful for you. How to Get Start making money? First thing, how to get started? This is very basic question that every body will ask. First thing is you need to understand how will you make money online from home. There are a number of ways to do that. Start a Blog Become an Affiliate Start an Online Forum Online data entry, marketing Provide any service to people via website Sell your products online to people - online shopping (ecommerce) Build a website that has informative articles regarding issues in the society. Participate in other legal Earn Money Online Programmes, never participate in any illegal program The idea of online money making is attractive to many because of the benefits it offers. Primarily, because of two main motivational factors: First, the lucrative potential of the internet, as one can earn in dollars. Second, the personal freedom that comes, becuase you can work from any where, no geographical limitations. Whether you live in a village, city or far from area. Even there is no fixed schedule you have to follow, you can work anytime at your convience. One does not need to suffer through monotonous day jobs which offer poor returns for the time invested. Indeed, why make $7 to 10 an hour selling coffee behind a counter when you can easily earn the same amount by spending 10 minutes to write an article on your blog? Even if you are not looking to work full-time at home, the internet offers a viable source of money which can help to supplement your regular income. Cataloging the different ways to Make Money Online If you perform a basic search on Google, it will reveal many ways to make money online and most of the websites listed in the search results pages seem to focus on the same methods of earning money. I thought it will be a good idea to categorize and compile a list of the online money making methods available so that future visitors will have a reference point which provides them with all information they need. This list uses a rather broad categorization, which I believe covers most of the ways to make money online. More methods and examples of how to make money online are added regularly to our list. 1. Set up a Blog or Website for Profit One of the best ways to earn money online is to create a website or blog which allows you to earn money from the display of advertisements or the sale of products and services. There are many different types of money making blogs which will help you to make money and you will need to pick a model that suits your interests, schedule and skill levels. A simple no frills blog will allow you to easily pull in at least several hundred dollars in a month through the use of paid blogging websites alone. For more information, check out webdevelopmentseo's and forumpakistan's archive of articles on how to make money blogging. Apart from blogs, other websites can easily help you to generate passive income as well. These can range from e-commerce websites, social communities and information portals to basic article pages for affiliate programs. 2. Learn about Affiliate Marketing and Art of Selling This involves promoting a specific product or service and earning commissions whenever the referred user makes a purchase based on your recommendations. Affiliate marketing is a big and profitable industry that covers a wide spectrum of topics and fields. If you have got an interest in fitness, you can make money promoting fitness videos or courses e.g. videos to loss your weight. In fashion wear, you can earn commissions by recommending friends to clothing or t-shirt of companies which are offering affiliate programs. The amount of money you make depends on what you are selling. If done correctly, affiliate marketing is one of the most powerful ways to make money from the web. Advertisements.pk, Amazon, commission junction and Click Bank are few biggest affiliate market places that you can use if you are branching out into affiliate marketing. 3. Start an Online Business / Website Starting your own online business or company allows you to make money off the provision of specific services or products you may have. Some examples of popular online trades include web design, web hosting, online shop to sell your products, copywriting and internet marketing. It is not difficult to start a business. It is all about hiring the right people or having enough knowledge and connections within a specific industry. You should do some in depth research before you decide to settle on a specific niche for your business. webdevelopmentseo.com is the most reliable company to develope your online business website at very reasonable prices, they also do optimization for your website / online business. 4. Try Out Domaining and the Online Real Estate Trade This is the business to purchas, sell, develope and making money from domain names. A domainer purchases many domain names and sells these to interested buyers. This is similar to real estate investing offline and domainers also make money by developing websites and reselling it to a buyer. This practice is known as site flipping and can make you a tidy sum of money if you know how to build an attractive and profitable website. For a rough estimate of how much money you can earn from site flipping, check out the SitePoint Marketplace to browse through the collection of websites for sale. 5. Participate in Surveys There are hundreds of websites out there which you pay you to do surveys, sign up for trial subscriptions, online data entry. Websites that pay you to complete offers are worth examining because they usually include affiliate programs with recurring commissions to be earned. The benefit of get paid to websites is that you do not need to have your own website or any personal skills at all. The downside is that there are a lot of get-paid-to scams around and finding websites that are legitimate can be fairly difficult. There are also many social media websites out there that will pay you to participate in their community. This collection of social media websites usually operate via a revenue-sharing system, which allows you to earn a share of the overall ad revenue. How much you earn depends on how much your submitted article, video etc.. More money making methods details can be viewed from top menu at makemoneypk, yes pk not www com :).

Saturday, November 7, 2015

مریخ پرپانی اورزندگی

مریخ پرپانی اورزندگی سورج کی سرگرمی کی وجہ سے ختم ہوچکے، ناسا
اے ایف پی/ویب ڈیسک 4 گھنٹے پہلے

اس وقت مریخ پر ہوا کا دباؤ زمین کےدباؤ سے ایک فیصد کم ہے جس کی وجہ سے پانی یا تو بخارات بن کراڑ جاتا ہے یا جم جاتا ہے، فوٹو: فائل
میامی: چند روز قبل ہی ناسا نے اس راز سے پردہ اٹھایا تھا کہ مریخ پر موجود برف جمے پانی کے ذخائر موجود ہیں اور اب سائنس دانوں نے ایک نیا انکشاف کرتے ہوئے کہا ہے کہ مریخ پر پانی اور زندگی شمسی طوفان اور سورج کی سرگرمی کی وجہ سے رفتہ رفتہ ختم ہوچکی ہے۔
امریکی خلائی ایجنسی کی ماون سٹیلائٹ پر کام کرنے والے تحقیق کاروں نے اپنے نتائج کے پہلے مرحلے کی معلومات  میں انکشاف کیا ہے کہ سورج کے ساتھ باہمی عمل کے نتیجے میں مریخ کی ہوا زیادہ اونچائی پر جا کر ختم ہو رہی ہے اور یہ عمل ماضی میں بہت زیادہ رہا ہے۔
ناسا کے خلائی جہاز ماون کے پرنسپل تحقیق کار بروس جکوسکی کاکہنا ہے کہ سائنس دان بہت تیزی سے مریخ پر زندگی سے متعلق اپنے سوالوں کا جواب حاصل کرنے کی طرف جا رہے ہیں اورتوقع سے کہیں زیادہ تیزی سے بہت اہم معلومات جمع ہورہی ہیں اور جو معلومات شائع کی گئی ہیں وہ صرف ان کی ابتدائی 3 سے 7 ماہ کی تحقیق کا نتیجہ ہے اور اب بھی ان معلومات کا تجزیہ کیا جا رہا ہے جب کہ مزید ایک اور مشن کی منظوری مل چکی ہے جس میں یہ دیکھا جا سکے گا کہ مریخ پر پورے سال کے دوران مختلف موسم اس نظام پر کس طرح اثر انداز ہوتے ہیں۔
سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ اس سے قبل مریخ پر جانے والی تمام سٹیلائٹ اور مریخ تک پہنچنے والے مشنوں کے مشاہدے سے اس بات کا اشارہ ملتا ہے کہ اس سرخ سیارے کے گرد کبھی گیسوں کی ایک موٹی چادر تھی، جس سے یہ اندازہ لگانے میں مدد ملی کہ مریخ کی سطح پر پانی موجود ہے جب کہ سٹیلائٹ سے حاصل کی گئی تصاویر سے بھی سیارے کی سطح پر ایسے مناظر نظر آرہے ہیں کہ جن کی شکل دریاؤں ، ندیوں اور جھیلوں سے ملتی ہے تاہم  اس وقت مریخ پر ہوا کا دباؤ زمین کے دباؤ سے ایک فیصد کم ہے جس کا مطلب ہے کہ وہاں موجود پانی یا تو بخارات کی شکل میں اڑ جاتا ہے یا پھر بالکل جم جاتا ہے اورممکن ہے کہ سیارے کی فضا میں تبدیلی کی کچھ وجہ اس کی ہوا کاسطح پر موجود نمکیات کے ساتھ ردعمل بھی ہو۔
گذشتہ سال شروع کی جانے والی تحقیق کے مطابق مریخ کی فضا میں تغیر کی سب سے ممکنہ وجہ سورج ہے، جس نے مریخ کو ایک گرم اور مرطوب سے ایک سرد اور خشک سیارے میں تبدیل کردیا ہے اور اس کا پتا اس وقت چلا جب مریخ کے گرد چکر لگانے کے دوران سٹیلائٹ اس کے مزید نزدیک گیا اور سطح سے 200 کلو میٹر کے اندر جاکر وہاں موجود گیسوں کے نمونے حاصل کیے جس سے اندازہ لگایا گیا کہ سورج کی شعاعوں کے ساتھ وہ کیسا ردعمل ظاہر کرتی ہیں۔
سورج مستقل بڑی تعداد میں متحرک ذرات خارج کرتا رہتا ہے جن کو شمسی ہوا کہا جاتا ہے۔ یہ ہوا ا پنے اندر مقناطیسی خصوصیات رکھتی ہے اور جب یہ سیارے سے ٹکراتی ہے تو برقی قوت پیدا کرتی ہیں۔ یہ قوت سیارے کی فضا میں موجود ایٹمی ذرات کو متحرک کردیتی ہے، جس کے نتیجے میں یا تو وہ ایٹمی ذرات سیدھے خلا میں واپس چلے جاتے ہیں یا پھر فضا میں موجود دوسرے عوامل کے ساتھ مل کر ختم ہوجاتے ہیں اور یوں وہاں موجود پانی جم جاتا ہے۔ ناسا نے مریخ کے ماحول او اس میں ہونے والی تبدیلیوں کا جائزہ لینے کے لیے خلائی جہاز ماون کو 2013 میں خلا میں بھیجا تھا جس نے ستمبر 2014 میں مریخ کی سطح پر اپنے مشن کا آغاز کردیا تھا۔