وہ راستہ بھٹک کر یہان پہنچا تھا .درویش اپنی کٹیا میں عبادت مین مصروف تھا .ایک عجیب دا سکون اور طمانیت تھی اس کے چہرے پر ..لیکن عجیب بات تھی کہ اس کے سامنے ایک سوکھی دوشاخہ زمیں میں گڑی ہوئ تھی ..
درویش نے عبادت ختم کی تو اس کا چہرہ آنسوؤن سے تر تھا .اس نے حسرت بھری نظروں سے دوشاخہ کی طرف دیکھا ..
آنے والے نے خامشی سے یہ منظر دیکھا .اس نے نا کبھی عبادت میں دل چسپی لی تھی نا ہی دنیا اور دنیا والوں سے اسکی دل چسپی ختم ہوئ تھی ..وہ تو بس ایک عام سا بندہ تھا .
درویش کی عبادت اور کٹیا کے ماحول نے اس پر عجب اثر کیا ..اس کے دل کا زنک جیسے قطرہ قطرہ اترتا جا رہا تھا .پھر بھی دوشاخہ کے بارے میں اس کا تجسس برقرار تھا ..
اس نے درویش سے پوچھ.
بابا ..اس دوشاخہ کو اپ نے کیوں رکھا ہوا ہے؟
درویش نے جواب دیا .
بیٹا جب میرا رب میری عبادت قبول کرلے گا تو اس سوکھی ٹنڈ منڈ شاخ میں سبز کونپل پھوٹ پڑے گی ..
اس کے دل میں عبادت کی شدید خواہش بیدار ہوئ اور اس نے بھی ایک دوشاخہ کو اپنے لئے زمیں کے سینے میں گاڑ دیا ...
دونوں عبادت میں مصروف ہوگئے ....
دور کہیں جنگل میں کسی بھیڑیا صفت نے کسی لکڑیاں چنتی عورت کو دبوچ لیا تھا ..اسکی چیخیں اور مدد کو پکارتی صداؤں نے جنگل میں ہیجان سا پیدا کردیا تھا ..
درویش کی عبادت میں فرق نا آیا .درویش کے ہونٹ مسلسل دعاؤں میں مصروف تھے .
اس کے اندر کے کوئ جھنجھؤڑ رہا تھا .
اس نے آنکھیں کھولیں اور اوازوں کی سمت دوڑ لگادی ...!!!
اسکی سوکھی شاخ پے سبز کونپل سر اٹھا رہی تھی ....!!!!!
The Pakistan News junction News in English and Urdu All News Latest and Oldest
Tuesday, December 1, 2015
قصہ ایک درویش کا
Subscribe to:
Comments (Atom)